یہ محاورہ حالات کی شدت اور ضرورت کے وقت انسان کو غیر معمولی اقدامات کرنے کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔ اردو ادب اور روزمرہ مکالمات میں یہ محاورہ ان مواقع کے لیے استعمال ہوتا ہے جب کوئی شخص یا چیز معمول سے ہٹ کر کردار ادا کرتی ہے، یا غیر متوقع ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
یہ محاورہ عملی عقل، ہمت، اور چالاکی کو ظاہر کرنے کے لیے بھی آتا ہے، اور طنز یا مزاح کے لیے بھی مستعمل ہے۔
Expanded Features:
Polarity: Neutral/Positive
Register: Everyday, Literary, Humorous
Pragmatic Sense: Necessity, improvisation, unexpected responsibility
Synonyms (Urdu): مشکل وقت میں اقدام کرنا، لازمی قدم اٹھانا
Synonyms (English): act out of necessity, step up, take responsibility
Antonyms (Urdu): بے عملی، ناکامی
Antonyms (English): inaction, failure
Key Nuances:
- ضرورت کے وقت غیر متوقع اقدامات
- عملی عقل اور ہمت کی نمائندگی
Usage Contexts:
- روزمرہ مکالمہ
- کہانی اور افسانہ
- طنز اور مزاح
Example Sentences:
Urdu: جب گھر میں سب مصروف تھے تو مجھے ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑا
English: When everyone was busy at home, I had to step up and act like a father
Urdu: مشکل حالات میں ہمیں ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے
English: In difficult situations, we have to act beyond our usual capabilities
Urdu: استاد نے کہا کہ ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے
English: The teacher said that in times of need, one must rise to the occasion
Urdu: کاروبار میں بحران آیا تو مجھے ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑا
English: During the business crisis, I had to take extraordinary responsibility
Urdu: امتحان کے دن ہر طالب علم کو ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے
English: On exam day, every student has to rise to the occasion
Cultural/Poetic Insight:
یہ محاورہ عملی زندگی، چالاکی، اور ہمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اردو ادب میں ایسے محاورے انسانی حالات اور ذمہ داری کے اظہار کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
Related Terms:
چالاکی (Chalaki): cleverness
ہمت (Himmat): courage